نئی دہلی،21؍دسمبر(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کسان تحریک کا آج 25 واں دن ہے۔ ان 25 دنوں کے اندر کچھ لوگ جو کسانوں کی تحریک میں شامل ہوئے تھے وہ بھی مر گئے ہیں۔ سنگھو بارڈر پر اس تحریک میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ان تمام مظاہرین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ یہاں 24 افراد کی تصاویررکھی گئی۔ ان کے علاوہ دوسرے فوت ہوئے افراد کوبھی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
کسانوں کی تحریک میں شامل کسانوں نے مرنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاہے کہ شاید وہ ان لوگوں کو ذاتی طور پر نہیں جانتے ہوں گے لیکن وہ سبھی کسان، کسانوں کے بیٹے تھے۔ سبھی کسانوں کے حقوق کے لئے یہاں آئے تھے۔ سب کو شہید کا درجہ ملنا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہمارا مطالبہ ہے کہ سب کے کنبوں میں سے ہر ایک کو سرکاری ملازمت دی جائے اور ہر ایک کو ایک کروڑ معاوضہ دیا جائے۔
کسانوں کی تحریک کے دوران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھنے والوں کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جمع ہونے والے کسانوں نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کئے جاتے وہ واپس نہیں جائیں گے۔ مطالبہ یہ ہے کہ تینوں زرعی قوانین کو واپس لیا جائے۔ اگر یہ نہیں کیا جاتا ہے تو، ہم یہاں سے کہیں نہیں جائیں گے۔